حلقه نور الايمان

Halqa Noor-Ul-Iman

Get Adobe Flash player

الحمداللہ ھم مسلمان ہیں۔خیر الا مت ہیں۔بحثیت خیر الا مت اور امتِ وسط ھمارا فرض بنتا ہے کہ ہم خود بھی صبغۃ اللہ
(اللہ کا رنگ) اختیار کریں اوردوسروں کو بھی اللہ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں۔
کسی بھی قوم یا معاشرے کی اصلاح و تعمیر میں بنیادی کردار خواتین ادا کرتی ہیں۔عورت معاشرہ بنا بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی
ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کیسے؟....اسکاجواب ہے کہ ہرمعاشرے 249 قوم 249 امت کی نسل ماؤں کی گود وں میں پلتی ہے۔انکا پہلا مدرسہ ہی ماں کی گود ہوتی ہے۔لہٰذا اگرمائیں صبغۃ اللہ(اللہ کا رنگ) اختیار کریں گی تو وہ اپنی اولاد کی تربیت بھی اسلامی مزاج کے مطابق اوراسلامی خطوط پر کر سکیں گی۔
آج ہم یورپ کے جس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔یہاں ہمارے بچے ا سلامی معاشرت وتمدن سے دورایک مغربی ماحول میں
پروان چڑھ رہے ہیں۔اسلیئے یہاں تو ماں کی ذ مہ داری اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔کہ نہ صرف خود دین پر قائم رہیں بلکہ اپنے
بچوں کو بھی گھروں میں ایسا ماحول دیں کہ وہ اللہ کے رنگ میں رنگ جائیں۔
دین کے پا نچ اجزاء ہیں۔پہلا جز عقائد کا ہے کہ انسان دل اور زبان سے توحید 249رسالت 249 آخرت249 آسمانی کتب وغیرہ کا اقرار
کرے۔ دوسرا جز عبادات یعنی نماز 249 روزہ 249 زکوۃ 249 حج کا اہتمام ۔تیسرا جز معاملات یعنی لین دین 249 خریدو فروخت 249 نکاح و طلاق
کے احکامات وغیرہ۔چوتھا جز معاشرت 249 ملنا جلنا 249 رشتہ داروں سے تعلقات 249 شوہر اور بچوں سے برتاؤ249 اور پا نچواں جز اخلاق و
اصلاحِ نفس ہے۔ہمیں صبغۃ اللہ اختیار کرنے کیلے عقائد249 عبادات249معاملات اور اخلاقیات249 یعنی تمام پہلوؤں پر توجہ دینی ہوگی
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عقیدہ توحید کے حوالے سے دیکھا جائے تواکثر خواتین عمل میں شرک کر جاتی ہیں۔کسی قبرپر
چڑھاوا چڑھانا 249 غیر اللہ کی نذر ماننا 249 غیر اللہ سے مانگنا ،اللہ کے سوا دوسروں سے امیدیں لگانا 249غیر اللہ سے مدد کی امید249 کسی بزرگ
سے تعویذ کروانا 249 جادو ٹونے میں مبتلا ہونا249 دوسروں کو اپنے نفع نقصان کا ذ مہ دار سمجھنا 249یہ سب شرک ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے۔کہ حضور ﷺ نے فرمایا‘‘کہ ا پنے نفع کی چیز کو شش سے حاصل کرو۔ اللہ سے
مدد چاہو اورہمت نہ ہارو اور اگر تجھ پر کوئی مصیبت یا نا کامی آ جائے تو یوں مت کہو کہ اگر میں یوں کرتا تو ایسا ہو جاتا۔البتہ ایسے وقت
میںیوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہی مقدر میں لکھا تھا۔اور جو اسکو منظور تھا اس نے وہی کیا۔‘‘
اس کے علاوہ ہمارے عقائد میں بہت سی بدعات شامل ہوچکی ہیں۔کتاب و سنت کے احکامات کو چھوڑ کرہم خواتین نے
غیر اسلامی رسوم کو اپنا لیا ہے۔شادی ہو یا فوتگی یا کوئی اور معاملہ ہم صبغۃ اللہ کی بجائے ہندی رنگ میں رنگے ہوے ہیں۔
عبادات میں ہم خواتین اکثر سستی دکھا جاتی ہیں۔ خاص طور پر اپنی نمازوں کی اس طرح حفاظت نہیں کرتیں جسطرح کرنی
چاہیئے ۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم خواتین کسی شادی یا دعوت میں مدعو ہوں یا ہمارے گھر میں مہمان آجائیں تو نماز کا اہتمام کرنے
میں کوتاہی کی جاتی ہے۔رات کو دیر سے گھر واپس آ ئیں تو تھکن کے بہانے نماز ادا نہیں کی جاتی ۔
اب جب ہمارے بچے ہماری ایسی ’ عبادات ‘دیکھیں گے تو وہ کسطرح اپنی نمازوں میں خشوع خضوع پیدا کرینگے۔
اسی طرح اگر ماں روزہ نہیں رکھے گی تو اپنے بچوں کو روزہ کی عادت کیسے ڈالے گی۔
ہم خواتین کو اپنے معاملات 249 تعلقات 249 اور اخلاق کو بھی اسلامی رنگ میں رنگنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے
ماں باپ کی عزت کریں249 بہن بھائیوں سے محبت کریں249 ہماری بیٹی اچھی بیوی249 اور بیٹا اچھا شوہر بنے249 سچ بولیں249 غیبت نہ کریں 249 ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کریں249 غصہ سے اجتناب کریں249 دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے والے ہوں249صلوۃ قائم  کرنے والے 249زکوۃ دینے والے 249 روزے رکھنے والے249 اور عقائد میں بدعات سے دور ہوں تو ہمیں خود کو نمونہ 249 رول ماڈل بنانا ہو گا۔اور اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگنا ہو گا۔۔۔اللہ تعا لیٰ صبغۃ اللہ اختیار کرنے میں ہماری مدد کرے ( آمین)

تازه ترين